حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ‏:‏ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”تَقْوَى اللهِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ“، قَالَ‏:‏ وَمَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّارَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”الأَجْوَفَانِ‏:‏ الْفَمُ وَالْفَرْجُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: جنت میں سب سے زیادہ کیا چیز داخل کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق۔“ سائل نے پوچھا: جہنم میں جانے کا کیا چیز زیادہ باعث بنے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کھوکھلی چیزیں: منہ اور شرمگاہ۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 294
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : تقدم تخريجه برقم : 289»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
دیکھیے حدیث:۲۸۹ کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 294 سے ماخوذ ہے۔