الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ حُسْنِ الْخُلُقِ إِذَا فَقِهُوا باب: دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے کے لیے حسن اخلاق
حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: ”تَقْوَى اللهِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ“، قَالَ: وَمَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّارَ؟ قَالَ: ”الأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: جنت میں سب سے زیادہ کیا چیز داخل کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق۔“ سائل نے پوچھا: جہنم میں جانے کا کیا چیز زیادہ باعث بنے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کھوکھلی چیزیں: منہ اور شرمگاہ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
دیکھیے حدیث:۲۸۹ کے فوائد و مسائل۔
دیکھیے حدیث:۲۸۹ کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 294 سے ماخوذ ہے۔