الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ حُسْنِ الْخُلُقِ إِذَا فَقِهُوا باب: دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے کے لیے حسن اخلاق
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”خَيْرُكُمْ إِسْلاَمًا أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاَقًا إِذَا فَقِهُوا.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے اعتبار سے تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں جبکہ ان میں دین کی سوجھ بوجھ بھی ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
حسن اخلاق کے ساتھ اگر دین کی سوجھ بوجھ ہو اور انسان حسن اخلاق کا مظاہرہ اللہ کی رضا کے حصول کے لیے کرے تو وہ حسن اخلاق دو آتشہ ہو جاتا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے فقیہ کی تعریف یوں کی ہے: ’’دنیا سے بے پروا اور آخرت کا طلب گار، دینی بصیرت رکھنے والا اور عبادت پر ہمیشگی اور دوام کرنے والا حقیقی فقیہ ہے۔‘‘ (صحیح الادب المفرد)
حسن اخلاق کے ساتھ اگر دین کی سوجھ بوجھ ہو اور انسان حسن اخلاق کا مظاہرہ اللہ کی رضا کے حصول کے لیے کرے تو وہ حسن اخلاق دو آتشہ ہو جاتا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے فقیہ کی تعریف یوں کی ہے: ’’دنیا سے بے پروا اور آخرت کا طلب گار، دینی بصیرت رکھنے والا اور عبادت پر ہمیشگی اور دوام کرنے والا حقیقی فقیہ ہے۔‘‘ (صحیح الادب المفرد)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 285 سے ماخوذ ہے۔