حدیث نمبر: 281
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلاَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”لاَ يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا، وَلاَ يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ میں پڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے، اسی طرح بخل اور ایمان بھی کسی بندے کے دل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 281
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه النسائي ، الجهاد ، فضل من عمل فى سبيل الله على قدمه : 3112 و روى ابن ماجة شطره الأول : 2774 - المشكاة : 3838»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)بخل کی شدید ترین صورت کا نام شح ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک مال کو لالچ اور حرص کی بنا پر کسی کو نہ دینا شح کہلاتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بخل صرف مال میں ہوتا ہے جبکہ ’’الشح‘‘ مال اور دیگر معروف کاموں میں ہوتا ہے، یعنی کسی کے ساتھ مالی طور پر یا کسی اور طریقے سے بھی تعاون نہ کرنا شح کہلاتا ہے۔ (النهایة)
(۲) ایسا بخل جو واجبات کی تکمیل میں رکاوٹ ہو یا بندوں پر ظلم پر آمادہ کرے حرام ہے اور ایسے بخل کی صورت میں انسان کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ مومن کے اندر یہ برائی نہیں ہوسکتی ہے کہ وہ اس قدر خود غرض ہو۔
(۳) اس میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کی فضیلت بھی معلوم ہوئی کہ اللہ کی راہ میں گرد آلود ہونے والے قدم دوزخ میں نہیں جائیں گے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 281 سے ماخوذ ہے۔