حدیث نمبر: 28
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ سُفْيَانَ يَزْعُمُ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ عِيَاضٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ‏:‏ مِنَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى أَنْ يَسْتَسِبَّ الرَّجُلُ لِوَالِدِهِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے ہاں کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دلوانے کا سبب بنے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الوالدين / حدیث: 28
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن: »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے اس قول میں لفظ (عنداللہ)’’اللہ تعالیٰ کے ہاں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ عموماً جب کوئی آدمی کسی دوسرے شخص کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کو معمولی سمجھتا ہے کیونکہ اکثر و بیشتر وہ کسی بد سلوکی کا جواب دے رہا ہوتا ہے یا اس کے خیال میں وہ مظلوم ہوتا ہے لیکن اللہ کے ہاں یہ معمولی نہیں۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے۔
(۲) والدین کو گالیاں دلوانے کا سبب بننا خود گالیاں دینے کے مترادف ہے۔
(۳) اس میں ضمناً یہ بات بھی آتی ہے کہ کوئی انسان والدین کو ایسا کام کرنے پر مجبور کرے کہ جس پر لوگ انہیں گالیاں دیں یا خود کوئی ایسا کام کرے جس سے لوگ اسے اور اس کے والدین کو برا بھلا کہیں، مثلاً: راستے پر پیشاب کرنا وغیرہ۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 28 سے ماخوذ ہے۔