حدیث نمبر: 277
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي: أُفٍّ، قَطُّ، وَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ: أَلاَ كُنْتَ فَعَلْتَهُ؟ وَلاَ لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَهُ؟.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، اور اگر میں نے کوئی کام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہیں کہا: تو نے یہ کیوں نہیں کیا؟ اور نہ کبھی ایسا ہوا کہ میں نے کوئی کام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا ہو کہ تو نے یہ کیوں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت ظرفي اور حسن اخلاق کی اعلیٰ دلیل ہے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس قدر سخی اور فراخ دل دیا تھا کہ دنیا کے معاملات کو خاطر ہی میں نہیں لاتے تھے بلکہ عفوو درگزر سے کام لیتے جو نفس کی سخاوت کی اعلیٰ قسم ہے۔
(۲) اس سے معلوم ہوا کہ خادم اور نوکر کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے اور اسے ڈانٹ ڈپٹ سے گریز کرنا چاہیے، تاہم شرعی امور کی پابندی کروانا لازم ہے۔
(۳) اس میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بھی ایک لحاظ سے مدح ہے کہ انہوں نے کبھی ڈانٹ ڈپٹ اور ناراضی کا موقع ہی نہیں دیا۔
(۱)یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت ظرفي اور حسن اخلاق کی اعلیٰ دلیل ہے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس قدر سخی اور فراخ دل دیا تھا کہ دنیا کے معاملات کو خاطر ہی میں نہیں لاتے تھے بلکہ عفوو درگزر سے کام لیتے جو نفس کی سخاوت کی اعلیٰ قسم ہے۔
(۲) اس سے معلوم ہوا کہ خادم اور نوکر کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے اور اسے ڈانٹ ڈپٹ سے گریز کرنا چاہیے، تاہم شرعی امور کی پابندی کروانا لازم ہے۔
(۳) اس میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بھی ایک لحاظ سے مدح ہے کہ انہوں نے کبھی ڈانٹ ڈپٹ اور ناراضی کا موقع ہی نہیں دیا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 277 سے ماخوذ ہے۔