حدیث نمبر: 273
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الأَخْلاقِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے ہی مبعوث کیا گیا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 273
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أحمد : 8952 و ابن سعد فى الطبقات : 191/1 و الحاكم : 670/2 و البيهقي : 323/10 - الصحيحة : 45»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مطلب یہ ہے کہ پہلی امتوں کے اخلاق کی جو کمی ہے، یا لوگوں نے جن اچھے اخلاقی امور کو ترک کر دیا ہے میں ان سب کو جمع کرنے والا اور ان کی تکمیل کرنے والا ہوں۔ گویا سابقہ تمام ادیان کے اچھے اخلاق کو اسلام میں جمع کر دیا ہے اور یہ صرف اسلام کا خاصہ ہے۔
(۲) صالح اخلاق سے مراد وہ امور جو دین، دنیا اور آخرت کو اچھا بنائیں، یعنی صالح اخلاق یہ ہیں کہ انسان دین کے معاملات بھی صحیح طور پر پورے کرے اور دنیا کے معاملات بھی خوش اسلوبی سے نبھائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 273 سے ماخوذ ہے۔