حدیث نمبر: 267
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ‏:‏ مَزَحَتْ عَائِشَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ أُمُّهَا‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، بَعْضُ دُعَابَاتِ هَذَا الْحَيِّ مِنْ كِنَانَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”بَلْ بَعْضُ مَزْحِنَا هَذَا الْحَيُّ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مذاق کی کوئی بات کہی تو ان کی والدہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (آپ محسوس نہ فرمایئے گا) اس قبیلے میں مذاق کی کئی باتیں بنو کنانہ سے آ گئی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ہمارے بعض مذاق بھی اسی قبیلے کے ہیں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 267
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : رواه ابن عساكر فى تاريخه : 36/4 ، فوصله فقال فيه ، ابن أبى مليكة عن عائشة ، وقال الذهبي عن إسناده فى تاريخ الإسلام : 773/1 ، حمزة لا اعرفه ، و المتن منكر»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے کہ ابن ابی ملیکہ تابعی ہیں اور وہ اس واقعہ کے وقت موجود نہیں تھے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 267 سے ماخوذ ہے۔