حدیث نمبر: 261
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلاَلٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ رُوحَ الْمُؤْمِنَيْنِ لَيَلْتَقِيَانِ فِي مَسِيرَةِ يَوْمٍ، وَمَا رَأَى أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ دو مومنوں کی روحیں ایک دن کی مسافت پر ایک دوسرے سے ملتی ہیں حالانکہ ان میں سے کسی ایک نے اپنے ساتھی کو دیکھا نہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ روحوں کا تعلق جسمانی جوڑ اور تعلق سے زیادہ ہوتا ہے۔
اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ روحوں کا تعلق جسمانی جوڑ اور تعلق سے زیادہ ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 261 سے ماخوذ ہے۔