الادب المفرد
كتاب المشورة— كتاب المشورة
بَابُ إِثْمِ مَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِغَيْرِ رُشْدٍ باب: اپنے بھائی کو غلط مشورہ دینے کا گناه
حدیث نمبر: 259
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ“، ”وَمَنِ اسْتَشَارَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ رُشْدٍ فَقَدْ خَانَهُ“، ”وَمَنْ أُفْتِيَ فُتْيَا بِغَيْرِ ثَبْتٍ، فَإِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری طرف کوئی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنا لے“، ”اور جس سے اس کے کسی مسلمان بھائی نے مشورہ طلب کیا اور اس نے اسے غلط مشورہ دیا تو اس نے مشورہ لینے والے کی خیانت کی“، ”اور جس نے بغیر دلیل کے غلط فتویٰ دیا (اور فتویٰ لینے والے نے اس پر عمل کر لیا) تو اس کا گناہ اسی پر ہوگا جس نے فتویٰ دیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس حدیث کی سند ضعیف ہے، تاہم اس کا پہلا جملہ ’’مَن تَقَوَّل ....مِنَ النَّار‘‘ تک دوسری صحیح اسناد سے ثابت ہے بلکہ متواتر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دانستہ یا نادانستہ جھوٹ منسوب کرنا جہنم میں جانے کا باعث ہے اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے گفتگو کرنے میں نہایت احتیاط برتنی چاہیے۔
(۲) جہاں تک مسلمان کو مشورہ دینے کا تعلق ہے تو اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح فرمان موجود ہے کہ اِذاستنصحک فانصح لہ ’’جب وہ تجھ سے کوئی مشورہ طلب کرے تو اس کی خیر خواہی کرتے ہوئے اسے اچھا مشورہ دے۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث:۲۱۶۲)
(۱)اس حدیث کی سند ضعیف ہے، تاہم اس کا پہلا جملہ ’’مَن تَقَوَّل ....مِنَ النَّار‘‘ تک دوسری صحیح اسناد سے ثابت ہے بلکہ متواتر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دانستہ یا نادانستہ جھوٹ منسوب کرنا جہنم میں جانے کا باعث ہے اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے گفتگو کرنے میں نہایت احتیاط برتنی چاہیے۔
(۲) جہاں تک مسلمان کو مشورہ دینے کا تعلق ہے تو اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح فرمان موجود ہے کہ اِذاستنصحک فانصح لہ ’’جب وہ تجھ سے کوئی مشورہ طلب کرے تو اس کی خیر خواہی کرتے ہوئے اسے اچھا مشورہ دے۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث:۲۱۶۲)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 259 سے ماخوذ ہے۔