حدیث نمبر: 258
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ السَّرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: وَاللَّهِ مَا اسْتَشَارَ قَوْمٌ قَطُّ إِلاَّ هُدُوا لأَفْضَلِ مَا بِحَضْرَتِهِمْ، ثُمَّ تَلاَ: ﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ﴾ [الشوری: 38].ترجمہ:مولانا عثمان منیب
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب کوئی قوم کسی معاملے میں مشورہ کرتی ہے تو ان کی راہنمائی ضرور افضل معاملے کی طرف کی جاتی ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: «﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ﴾» [الشورى: 38] ”اور ان کے باہمی معاملات مشورے سے طے پاتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یہ صفت بتائی ہے کہ وہ اپنے معاملات مشورے سے طے کرتے ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ مشورہ نصف عقل ہے۔ اس لیے دوسروں کے تجربات اور آراء سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔ اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والے لوگ اکثر مثبت فیصلے کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یہ صفت بتائی ہے کہ وہ اپنے معاملات مشورے سے طے کرتے ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ مشورہ نصف عقل ہے۔ اس لیے دوسروں کے تجربات اور آراء سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔ اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والے لوگ اکثر مثبت فیصلے کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 258 سے ماخوذ ہے۔