حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ‏:‏ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ‏:‏ ”وَشَاوِرْهُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن مجید کی آیت: «﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾» [آل عمران: 159] کو «وَشَاوِرْهُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ» پڑھا ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب المشورة / حدیث: 257
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه سعيد بن منصور فى سننه فى كتاب التفسير : 535 و ابن أبى حاتم فى تفسيره : 802/3 و ابن أبى داؤد فى المصاحف : 192/1»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنے معاملات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کریں۔ اس سے مقصود صحابہ کرام کی دل داری اور بعد والوں کے لیے اس سنت کا اجراء ہے ورنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہ تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی فرماتا تھا۔
(۲) یہ مشورہ مباح اور جائز امور میں ہونا چاہیے تاکہ آسان راہ اختیار کی جاسکے۔ جن امور میں شریعت کے واضح احکام موجود ہوں ان میں مشورے کی قطعاً ضرورت نہیں جیسا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مانعین زکاۃ کے خلاف جہاد کے بارے میں کسی کے مشورے کو خاطر میں نہ لائے۔
(۳) ہر معاملے میں مشورہ ضروری نہیں جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض امور میں مشورہ کرنے کا حکم دیا۔
(۴) مشورہ لینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب اس پر عمل کرنا ضروری ہے بلکہ حاکم وقت یا کوئی بھی آدمی مشورہ کرنے کے بعد جو مناسب سمجھے کر گزرے۔ اگر کسی کے مشورے پر عمل نہ کیا جائے تو اسے بھی برا محسوس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہر انسان کے مشورے پر عمل کیا جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 257 سے ماخوذ ہے۔