الادب المفرد
كتاب الانبساط إلى الناس— كتاب الانبساط إلى الناس
بَابُ الِانْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ باب: لوگوں کے ساتھ ہنس مکھ چہرے کے ساتھ پیش آنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعَ أُذُنَايَ هَاتَانِ، وَبَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا بِكَفَّيِّ الْحَسَنِ، أَوِ الْحُسَيْنِ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمَا وَقَدَمَيهِ عَلَى قَدَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”ارْقَهْ“، قَالَ: فَرَقِيَ الْغُلاَمُ حَتَّى وَضَعَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”افْتَحْ فَاكَ“، ثُمَّ قَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ: ”اللَّهُمَّ أَحِبَّهُ، فَإِنِّي أُحِبُّهُ.“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دونوں کانوں سے سنا اور دونوں آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں کو پکڑا اور ان کے دونوں پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”چڑھ جا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا :پھر بچہ چڑھ گیا حتی کہ اس نے دونوں پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر رکھ دیے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا منہ کھولو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بوسہ لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ تو بھی اس سے محبت فرما، کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
یہ روایت اس سیاق کے ساتھ ضعیف ہے۔