الادب المفرد
كتاب الانبساط إلى الناس— كتاب الانبساط إلى الناس
بَابُ الْعَفْوِ وَالصَّفْحِ عَنِ النَّاسِ باب: لوگوں سے درگزر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 244
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ [الأعراف: 199]، قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤْخَذَ إِلاَّ مِنْ أَخْلاَقِ النَّاسِ، وَاللَّهِ لَآخُذَنَّهَا مِنْهُمْ مَا صَحِبْتُهُمْ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
وہب بن کیسان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے منبر پر یہ آیت پڑھی: «﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾» [الأعراف: 199] ”عفو و درگزر سے کام لیں اور نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے اعراض کریں۔“ پھر فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیت لوگوں کے اخلاق کے متعلق نازل ہوئی۔ اللہ کی قسم جب تک میرا لوگوں سے معاملہ رہے گا میں اس کے حکم کو ضرور لوں گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ اپنے مخالفین، یہودو نصاریٰ اور مشرکین سے درگزر کا معاملہ کیجیے اور ان کی جہالتوں کی بنا پر ان سے برا سلوک نہ کیجیے۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں بھی لوگوں کے ساتھ اسی آیت کے مطابق معاملہ کروں گا اور عفو و درگزر سے کام لے کر صبر کروں گا۔ بعض مفسرین نے خُذِ الْعَفْوَ کے معنی یہ کیے ہیں کہ آپ ان سے زائد مال لیں، یعنی مراد زکاۃ و صدقات وصول کرنا ہے۔
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ اپنے مخالفین، یہودو نصاریٰ اور مشرکین سے درگزر کا معاملہ کیجیے اور ان کی جہالتوں کی بنا پر ان سے برا سلوک نہ کیجیے۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں بھی لوگوں کے ساتھ اسی آیت کے مطابق معاملہ کروں گا اور عفو و درگزر سے کام لے کر صبر کروں گا۔ بعض مفسرین نے خُذِ الْعَفْوَ کے معنی یہ کیے ہیں کہ آپ ان سے زائد مال لیں، یعنی مراد زکاۃ و صدقات وصول کرنا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 244 سے ماخوذ ہے۔