الادب المفرد
كتاب المعروف— كتاب المعروف
بَابُ الْخُرُوجِ إِلَى الضَّيْعَةِ باب: جائیداد کی طرف جانے کا بیان
حدیث نمبر: 237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ يَقُولُ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَنْ يَصْعَدَ شَجَرَةً فَيَأْتِيَهُ مِنْهَا بِشَيْءٍ، فَنَظَرَ أَصْحَابُهُ إِلَى سَاقِ عَبْدِ اللهِ فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَا تَضْحَكُونَ؟ لَرِجْلُ عَبْدِ اللهِ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو درخت پر چڑھنے اور کوئی چیز (مسواک وغیرہ) لانے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی باریک پنڈلیاں دیکھ کر ہنسنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیوں ہنستے ہو؟ یقیناً عبداللہ کی ٹانگ (روز قیامت) میزان میں احد پہاڑ سے بھی وزنی ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ہمراہ کھیتوں وغیرہ میں گئے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو مسواک وغیرہ اتارنے کا حکم دیا۔ اس لیے دوست احباب کے ساتھ اس طرح نکلنا ادب کے منافي نہیں ہے بلکہ جائز ہے۔
(۲) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کو خصوصی لگاؤ تھا تبھی آپ نے ان کا نام لے کر خدمت بجا لانے کا حکم دیا۔ اس سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقبت و فضیلت معلوم ہوئی۔
(۳) اس سے معلوم ہوا کہ روز قیامت اعمال کے وزن کے ساتھ ساتھ خود انسان کو بھی تولا جائے گا اور اس کا وزن ایمان کے حساب سے ہوگا۔
(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ہمراہ کھیتوں وغیرہ میں گئے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو مسواک وغیرہ اتارنے کا حکم دیا۔ اس لیے دوست احباب کے ساتھ اس طرح نکلنا ادب کے منافي نہیں ہے بلکہ جائز ہے۔
(۲) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کو خصوصی لگاؤ تھا تبھی آپ نے ان کا نام لے کر خدمت بجا لانے کا حکم دیا۔ اس سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقبت و فضیلت معلوم ہوئی۔
(۳) اس سے معلوم ہوا کہ روز قیامت اعمال کے وزن کے ساتھ ساتھ خود انسان کو بھی تولا جائے گا اور اس کا وزن ایمان کے حساب سے ہوگا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 237 سے ماخوذ ہے۔