حدیث نمبر: 224
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نیکی صدقہ ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب المعروف / حدیث: 224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الأدب ، باب كل معروف صدقة : 6021 و الترمذي : 1970 و رواه مسلم من حديث حذيفة : 1005 - الصحيحة : 204»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)ہر وہ کام جو شریعت کی نظر میں اچھا ہو معروف کہلاتا ہے۔ لوگوں کی نظر میں معروف ہو یا نہ ہو۔
(۲) ’’صدقہ ہے‘‘ یعنی ہر نیکی ثواب کے اعتبار سے صدقہ کی طرح ہے اور نیکی کو صدقہ اس لیے کہا گیا ہے کہ نیکی کرنے والا اللہ کے اس وعدے کی تصدیق کرتا ہے جو نیکی کرنے پر اس نے اپنے بندوں سے کر رکھا ہے۔ ابن بطال نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نیکی کے بدلے میں انسان کے لیے صدقے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔
(۳) اس حدیث میں نیکی کرنے کی ترغیب ہے خواہ وہ کوئی سی بھی ہو جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ
((لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَیْئًا))(صحیح مسلم، حدیث:۲۶۲۶)
’’معمولی سے معمولی نیکی کو بھی حقیر مت سمجھو۔‘‘
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 224 سے ماخوذ ہے۔