حدیث نمبر: 223
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ‏:‏ ذَكَرْتُ لأَبِي حَدِيثَ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّهُ قَالَ‏:‏ إِنَّ أَهْلَ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، فَقَالَ‏:‏ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي عُثْمَانَ يُحَدِّثُهُ، عَنْ سَلْمَانَ، فَعَرَفْتُ أَنَّ ذَاكَ كَذَاكَ، فَمَا حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا قَطُّ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

معتمر سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد سے ابو عثمان کی حدیث بیان کی کہ وہ سلمان سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جو دنیا میں نیکوکار ہیں وہ آخرت میں بھی اہل معروف (نیکوکار) ہوں گے۔ میرے والد گرامی نے کہا: میں نے بھی ابو عثمان سے سنا وہ سلمان سے بیان کرتے تھے، تو میں جان گیا کہ بس وہ ایسے ہی ہے تو میں نے یہ کبھی کسی کو بیان نہیں کی۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب المعروف / حدیث: 223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوفًا و صحيح لغيره مرفوعًا
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا و صحيح لغيره مرفوعًا : أخرجه الطبراني فى الكبير : 246/6 و البيهقي فى شعب الإيمان : 11181 - أخرجه ابن أبى شيبة : 25429 و أحمد فى الزهد : 2379»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ روایت موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح صحیح ہے۔ اور اس کے مفہوم کے لیے حدیث نمبر ۲۲۱کے فوائد ملاحظہ کیجیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 223 سے ماخوذ ہے۔