حدیث نمبر: 219
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلنَّفَسِ: اخْرُجِي، قَالَتْ: لاَ أَخْرُجُ إِلاَّ كَارِهَةً.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی جان سے کہتا ہے: نکلو، تو وہ کہتی ہے: میں نہیں نکلتی مگر ناگواری کے ساتھ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان طبعاً ناشکرا ہے حتی کہ جب اس کی روح جسم سے جدا ہوتی ہے اس وقت بھی خوشی سے اسے اللہ کے سپرد نہیں کرتا حالانکہ شکر کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اسے خوشی سے اللہ کے حوالے کر دیتا جیسا کہ آسمان و زمین نے کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْهًا قَالَتَا اَتَیْنَا طَائِعِیْنَ﴾ (فصلت:۱۱)
’’اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین سے فرمایا کہ خوشی اور نا خوشی سے آؤ تو انہوں نے کہا:ہم خوشی سے آئے ہیں۔‘‘
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان طبعاً ناشکرا ہے حتی کہ جب اس کی روح جسم سے جدا ہوتی ہے اس وقت بھی خوشی سے اسے اللہ کے سپرد نہیں کرتا حالانکہ شکر کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اسے خوشی سے اللہ کے حوالے کر دیتا جیسا کہ آسمان و زمین نے کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْهًا قَالَتَا اَتَیْنَا طَائِعِیْنَ﴾ (فصلت:۱۱)
’’اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین سے فرمایا کہ خوشی اور نا خوشی سے آؤ تو انہوں نے کہا:ہم خوشی سے آئے ہیں۔‘‘
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 219 سے ماخوذ ہے۔