حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لَا يَشْكُرُ اللَّهُ مَنْ لاَ يَشْكُرُ النَّاسَ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا جو لوگوں کا شکر گزار نہ ہو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 218
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب ، باب فى شكر المعروف : 4811 و الترمذي : 11954 - الصحيحة : 416»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جو شخص لوگوں کے احسانات پر ان کی شکر گزاری نہیں کرتا، حالانکہ وہ بہت معمولی اور تھوڑے ہوتے ہیں، تو وہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات کا شکر کیسے ادا کرے گا۔ جو تھوڑا کرنے سے عاجز آجائے وہ بڑا کام کیسے کرسکتا ہے؟
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں لوگوں کی درجہ بندی کی ہے اپنی نعمتیں بندوں ہی کے ذریعے سے ایک دوسرے کو دی ہیں۔ تو جو شخص اس ذریعے کی قدر نہیں کرتا تو وہ اس منعم حقیقی کا شکر گزار کیسے بن سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جو لوگوں کے احسانات پر ان کا شکر ادا نہیں کرتا، جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا شکر ادا کیا جائے اور ان کی تعریف کی جائے تو اس خالق کی شکر گزاری کیسے کرے گا جو بے نیاز ہے اور اسے کسی کی پروا نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 218 سے ماخوذ ہے۔