الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَنْ لَمْ يَجِدِ الْمُكَافَأَةَ فَلْيَدْعُ لَهُ باب: جس کے پاس بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ ہو وہ محسن کے لیے دعا کر دے
حدیث نمبر: 217
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَهَبَ الأَنْصَارُ بِالأَجْرِ كُلِّهِ؟ قَالَ: ”لَا، مَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ، وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ بِهِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سارا اجر تو انصار لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں ہے جب تک کہ تم ان کے لیے دعائیں کرو اور انہیں تعریفی کلمات سے یاد کرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح احسان کرنے والے اور ہدیہ وغیرہ دینے والے کو ثواب ملتا ہے، اسی طرح اس کے بدلے میں دعا کرنے والے اور محسن کی تعریف کرنے والے کو بھی اس دعا اور تعریف کا ثواب ملتا ہے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کوئی شخص واقعی احسان کا بدلہ دینے کی پوزیشن میں نہ ہو، اگر استطاعت ہونے کے باوجود بدلہ نہ دے اور جزاک اللہ خیراً کہہ دے تو وہ شاید اس ثواب کا مستحق نہ ہو۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح احسان کرنے والے اور ہدیہ وغیرہ دینے والے کو ثواب ملتا ہے، اسی طرح اس کے بدلے میں دعا کرنے والے اور محسن کی تعریف کرنے والے کو بھی اس دعا اور تعریف کا ثواب ملتا ہے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کوئی شخص واقعی احسان کا بدلہ دینے کی پوزیشن میں نہ ہو، اگر استطاعت ہونے کے باوجود بدلہ نہ دے اور جزاک اللہ خیراً کہہ دے تو وہ شاید اس ثواب کا مستحق نہ ہو۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 217 سے ماخوذ ہے۔