حدیث نمبر: 212
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالأَمِيرُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْؤُولَةٌ، أَلاَ وَكُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب ذمہ دار ہو اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس ہو گی، چنانچہ امیر وقت نگران ہے اور مسئول بھی ہے، اور آدمی اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی۔ عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا۔ خبردار! تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
دیکھیے، حدیث:۲۰۶ کے فوائد۔
دیکھیے، حدیث:۲۰۶ کے فوائد۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 212 سے ماخوذ ہے۔