الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ إِذَا نَصَحَ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ باب: جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے (تو اس کی فضیلت)؟
حدیث نمبر: 204
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”الْمَمْلُوكُ الَّذِي يُحْسِنُ عِبَادَةَ رَبِّهِ، وَيُؤَدِّي إِلَى سَيِّدِهِ الَّذِي فُرِضَ، الطَّاعَةُ وَالنَّصِيحَةُ، لَهُ أَجْرَانِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام اپنے رب کی صحیح عبادت کرتا ہے، اور اپنے آقا کا جو حق اطاعت اور خیرخواہی اس پر ہے اسے بھی ذمہ داری سے پورا کرتا ہے، اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔“