حدیث نمبر: 199
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُبَشِّرٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ‏:‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِي بِالْمَمْلُوكِينَ خَيْرًا وَيَقُولُ‏:‏ ”أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَأَلْبِسُوهُمْ مِنْ لَبُوسِكُمْ، وَلاَ تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللهِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں سے بھلائی اور حسنِ سلوک کی وصیت کرتے اور فرماتے: ”انہیں بھی وہی کھلاؤ جو خود کھاؤ، اور انہیں بھی ویسا لباس پہناؤ جیسا خود پہنو، اور اللہ کی مخلوق کو عذاب مت دو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 199
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : تقدم برقم : 188»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
غلام اور خادم خدمت کے لیے ہوتے ہیں ان سے خدمت لی جاسکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، تاہم اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ ان کے آرام کا بھی خیال رکھا جائے اور ان پر ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالا جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 199 سے ماخوذ ہے۔