حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَلاَّمَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَرِقَّاكُمْ إِخْوَانُكُمْ، فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِمْ، اسْتَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَكُمْ، وَأَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غُلِبُوا.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں، لہٰذا ان سے حسنِ سلوک کرو۔ جو کام تم سے نہ ہو سکے اس میں ان سے مدد لو، اور جو کام ان سے نہ ہو سکے اس میں ان کی مدد کرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس کی سند ضعیف ہے۔
اس کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 190 سے ماخوذ ہے۔