حدیث نمبر: 19
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ‏:‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کے لیے حاضر ہوا ہوں، اور میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ (میری جدائی کی وجہ سے) رو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا اور انہیں جس طرح رلایا ہے اسی طرح ہنسا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الوالدين / حدیث: 19
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحیح
تخریج حدیث «صحيح : تقدم أنظر الحديث : 13»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس حدیث کی تشریح کے لیے حدیث نمبر ۱۳ ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 19 سے ماخوذ ہے۔