حدیث نمبر: 186
حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مَنْ ضَرَبَ ضَرْبًا ظُلْمًا اقْتُصَّ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کو ظلماً مارا، اس سے قیامت کے دن قصاص لیا جائے گا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 186
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : رواه خليفة بن خياط فى مسنده : 84»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
امام بخاری رحمہ اللہ ان روایات کو غلام کے قصاص کے باب میں لائے ہیں حالانکہ اس میں غلام کی صراحت نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آزاد آدمی کا قصاص تو دنیا ہی میں لے لیا جاتا ہے، البتہ غلام کا قصاص دنیا میں نہیں ہے اس لیے ان روایات میں غلام کو مارنا ہی مراد ہے۔ یا پھر وہ مظلوم جو اپنا قصاص دنیا میں نہ لے سکیں۔ بعض روایات میں غلام کی صراحت ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 186 سے ماخوذ ہے۔