حدیث نمبر: 174
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي أَبِي، وَسَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے تو اسے چہرے پر مارنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب العتق ، باب إذا ضرب العبد فليجتنب الوجه : 2559 و مسلم : 2612»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ بوقت ضرورت خادم کو سزا دی جاسکتی ہے لیکن چہرے پر مارنا حرام ہے کیونکہ چہرہ قابل احترام ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس حدیث کے عموم کا تقاضا ہے کہ حد اور تعزیر وغیرہ میں بھی منہ پر نہ مارا جائے۔ (فتح الباري:۵؍۱۸۲)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 174 سے ماخوذ ہے۔