حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ‏:‏ كُنْتُ أَضْرِبُ غُلاَمًا لِي، فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا‏:‏ ”اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ“، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، فَهُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ، فَقَالَ‏:‏ ”أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ أَوْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا کہ اچانک اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: ”ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر رکھتے ہو۔“ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایسا نہ کرتے تو تجھے ضرور جہنم کی آگ چھوتی۔“ یا فرمایا: ”آگ تجھے ضرور اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب الإيمان ، باب صحبة المماليك : 1659 و أبوداؤد : 5159 و الترمذي : 1948»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ غلام یا خادم وغیرہ کو اگرچہ تادیبی سزا دی جاسکتی ہے جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اثر سے معلوم ہوتا ہے، تاہم اگر اس میں زیادتی ہوگئی تو معاملہ بڑا سنگین ہے۔ اسے بلاوجہ مارنا جہنم میں جانے کا باعث بن سکتا ہے۔
(۲) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گناہ کے فوراً بعد نیکی کرنا اس گناہ کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے اور ایسا کرنا قابل قدر کام ہے۔ بلکہ شرعی نصوص سے اس کی ترغیب ملتی ہے کہ گناہ ہو جائے تو اس کے فوراً بعد نیکی کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 171 سے ماخوذ ہے۔