حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ‏:‏ كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَخْتِمَ عَلَى الْخَادِمِ، وَنَكِيلَ، وَنَعُدَّهَا، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَعَوَّدُوا خُلُقَ سُوءٍ، أَوْ يَظُنَّ أَحَدُنَا ظَنَّ سُوءٍ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ابو العالیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ سامان پر مہر لگا دیں، اور سامان کو ماپ لیں، اور گنتی کر لیں تاکہ خادموں کو برے اخلاق (چوری اور خیانت) کی عادت نہ پڑے، یا ہمیں ان کے بارے میں بدگمانی پیدا نہ ہو۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 167
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه المروزي فى البر و الصلة : 352»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ مالک کو پوری احتیاط سے کام لینا چاہیے اور مکمل حساب کتاب کرنا چاہیے تاکہ ملازمین کو خیانت کا موقع نہ ملے۔ ویسے بے شک ان کے ساتھ حسن سلوک کرے لیکن حساب کتاب میں ڈھیل نہ دے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ خادم کو گوشت لینے کے لیے بھیجتے تو گوشت کے ٹکڑے شمار کرتے اور کھانے لگتے تو اسے ساتھ بٹھا کر کھلاتے۔ کسی نے دریافت کیا کہ ایک طرف تو آپ گوشت کے ٹکڑے بھی شمار کرتے ہیں اور دوسری طرف اسے ساتھ بٹھا کر کھلاتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا:اس سے دل صاف رہتا ہے اور بدگمانی پیدا نہیں ہوتی کہ اس نے لے نہ لیا ہو۔ (فیض الباری)یوں باہمی اعتماد بھی قائم رہتا ہے اور شیطان کو وسوسہ اندازی کا موقع بھی نہیں ملتا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 167 سے ماخوذ ہے۔