الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ باب: غلام اگر چوری کرے تو (اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے)
حدیث نمبر: 165
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا سَرَقَ الْمَمْلُوكُ بِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ“، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: النَّشُّ: عِشْرُونَ. وَالنَّوَاةُ: خَمْسَةٌ. وَالأُوقِيَّةُ: أَرْبَعُونَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ ڈالو خواہ ایک نش (بیس درہم) کا بکے۔“ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نش بیس درہم کا، نواة پانچ درہم کا، اور اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ بدکردار غلام کو بیچ دینا چاہیے خواہ معمولی قیمت ہی کیوں نہ ملے۔ تاہم جس کو بیچا جائے اسے آگاہ کرنا ضروری ہے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے اگرچہ بعض محققین نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ بدکردار غلام کو بیچ دینا چاہیے خواہ معمولی قیمت ہی کیوں نہ ملے۔ تاہم جس کو بیچا جائے اسے آگاہ کرنا ضروری ہے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے اگرچہ بعض محققین نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 165 سے ماخوذ ہے۔