حدیث نمبر: 162
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَمْرَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَبَّرَتْ أَمَةً لَهَا، فَاشْتَكَتْ عَائِشَةُ، فَسَأَلَ بَنُو أَخِيهَا طَبِيبًا مِنَ الزُّطِّ، فَقَالَ‏:‏ إِنَّكُمْ تُخْبِرُونِي عَنِ امْرَأَةٍ مَسْحُورَةٍ، سَحَرَتْهَا أَمَةٌ لَهَا، فَأُخْبِرَتْ عَائِشَةُ، قَالَتْ‏:‏ سَحَرْتِينِي‏؟‏ فَقَالَتْ‏:‏ نَعَمْ، فَقَالَتْ‏:‏ وَلِمَ‏؟‏ لاَ تَنْجَيْنَ أَبَدًا، ثُمَّ قَالَتْ‏:‏ بِيعُوهَا مِنْ شَرِّ الْعَرَبِ مَلَكَةً‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدہ عمرہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک لونڈی کو مدبر کر دیا۔ بعد ازاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار پڑ گئیں تو ان کے بھتیجوں نے ایک عجمی طبیب سے دریافت کیا (کہ انہیں اس طرح تکلیف ہے)، اس نے کہا کہ تم جس عورت کی بات کرتے ہو وہ تو سحر زدہ ہے، جس پر اس کی لونڈی نے جادو کیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا تو انہوں نے اس لونڈی سے پوچھا: تو نے مجھ پر جادو کیا ہے؟ تو اس نے کہا: ہاں! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اب تو غلامی سے کبھی نجات نہیں پائے گی، پھر فرمایا: اسے عرب کے اس قبیلے کے ہاتھ فروخت کر دو جن کا سلوک غلاموں کے ساتھ سب سے برا ہو۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مالك فى الموطأ رواية أبى مصعب : 2782 و أحمد : 24126 و عبدالرزاق : 140/6 و الحاكم : 219/4 و البيهقي فى الكبريٰ : 236/8»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)غلاموں اور لونڈیوں سے حسن سلوک کرنے کا حکم ہے لیکن اگر وہ بدخصلت اور برے ہوں تو انہیں کسی ایسے شخص کے ہاتھوں فروخت کیا جاسکتا ہے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ غلاموں سے برا سلوک کرتا ہے، نیز اپنی ذات کی خاطر بدلہ لینا جائز ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا۔
(۲) مستدرک حاکم (۴؍۲۲۰)میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اسے بیچ کر اس کی قیمت سے کوئی غلام خرید کر اسے آزاد کردو۔
(۳) مدبر:اس غلام یا لونڈی کو کہتے ہیں جسے یہ کہا جائے کہ تو میری وفات کے بعد آزاد ہے۔ اس لونڈی نے جادو اس لیے کیا تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جلد فوت ہو جائیں اور وہ آزاد ہو جائے۔
(۴) جادو کسی نیک اور صالح شخص پر بھی ہوسکتا ہے، اس لیے صبح و شام کے مسنون اذکار خصوصاً معوذتین کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے۔
(۵) اس سے کاہن کے پاس جانے کا جواز ثابت نہیں ہوتا کیونکہ طبیب نے علامات سے اندازہ لگایا تھا جیسا کہ مسند احمد (۶؍۴۰)میں صراحت ہے کہ طبیب نے کہا کہ تم مجھے جو علامات بتا رہے ہو یہ تو کسی جادو زدہ عورت کی ہیں۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی بات کو کافي نہیں سمجھا جب تک لونڈی نے خود اقرار نہیں کرلیا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 162 سے ماخوذ ہے۔