حدیث نمبر: 155
قَالَ‏:‏ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”مَا تَعُدُّونَ فِيكُمُ الصُّرَعَةَ‏؟“‏ قَالُوا‏:‏ هُوَ الَّذِي لاَ تَصْرَعُهُ الرِّجَالُ، فَقَالَ‏:‏ ”لَا، وَلَكِنَّ الصُّرَعَةَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلوان کسے کہتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کیا: وہ جس کو کوئی دوسرا شخص پچھاڑ نہ سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، حقیقی پہلوان وہ ہے جو غیظ و غضب کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 155
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، البر و الصلة : 2608 و أبوداؤد : 4779 و أحمد : 3626»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
انسان کی عظمت اور بڑا پن یہ ہے کہ وہ حلم و بردباری سے کام لے۔ غصے کے وقت اپنے حواس کو قابو میں رکھے۔ غصے میں آگ بگولا ہونے والا انسان معاشرے میں کبھی اونچا مقام حاصل نہیں کرسکتا۔ اس لیے کہ وہ کاہے کا بہادر ہے جس کا اپنی ذات پر کنٹرول نہیں۔ دوسرے لفظوں میں غصے پر قابو رکھنے والا انسان بہت سے حوادث سے بچ جاتا ہے اور باعزت زندگی گزارتا ہے جبکہ آپے سے باہر ہونے والا انسان قدم قدم پر بے عزتی کرواتا ہے اور اگر کوئی اس کی تکریم کرتا بھی ہے تو اس کے شر سے بچنے کے لیے۔ اس لیے اسے پہلوان اور بہادر کیسے کہا جاسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 155 سے ماخوذ ہے۔