حدیث نمبر: 154
قَالَ‏:‏ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”مَا تَعُدُّونَ فِيكُمُ الرَّقُوبَ‏؟‏“ قَالُوا‏:‏ الرَّقُوبُ الَّذِي لاَ يُولَدُ لَهُ، قَالَ‏:‏ ”لَا، وَلَكِنَّ الرَّقُوبَ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رقوب کسے کہتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جس کی اولاد نہ ہو وہ رقوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حقیقتاً لا ولد وہ ہے جس نے کسی اولاد کو آگے نہ بھیجا ہو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 154
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، البر و الصلة ، الأدب ، باب فضل من يملك نفسه عند الغضب : 2608 و أحمد : 3626 - الصحيحة : 3406»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
عربی زبان میں ’’رقوب‘‘ اس مرد اور عورت کو کہتے ہیں جن کی اولاد زندہ نہ رہتی ہو۔ یہ رقیب سے مأخوذ ہے کیونکہ یہ بھی بچے کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں۔ دنیاوی طور پر بلاشبہ رقوب وہی ہے جو لا ولد ہو لیکن یہ بہت بڑے اجر کا مستحق ہونے کی وجہ سے حقیقی معنوں میں اولاد والا ہے۔ کیونکہ اولاد کا دنیاوی فائدہ اس کے اخروی فائدے سے کہیں کم ہے۔ اور جو آخرت کے ثواب سے محروم رہا حقیقتاً وہی محروم اور بے اولاد ہے۔ اس حدیث میں صبر کرنے کی ترغیب بھی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 154 سے ماخوذ ہے۔