حدیث نمبر: 153
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ‏؟“‏ قَالُوا‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ، مَالُكَ مَا قَدَّمْتَ، وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر ایک کو اپنا مال وارث کے مال سے زیادہ عزیز ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جان لو کہ تم میں سے کوئی ایک بھی نہیں جس کو اپنا مال وارث کے مال سے زیادہ محبوب ہو۔ تمہارا مال وہ ہے جو تم نے (اللہ کی راہ میں خرچ کر کے) آگے بھیج دیا اور وارث کا مال وہ ہے جو تم نے اس دنیا میں چھوڑ دیا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 153
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أحمد : 3626 و البخاري ، الرقاق ، باب ما قدم من ماله فهو له : 6442»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مال و اولاد کی حرص انسان کے ضمیر کا حصہ ہے۔ انسان ساری زندگی محنت کرکے مال اکٹھا کرتا رہتا ہے بالآخر سب کچھ چھوڑ کر اس دنیا کو خیر باد کہہ دیتا ہے۔ مرتے دم تک میرا مال میرا مال اس کی زبان پر ہوتا ہے لیکن در حقیقت وہ مال اس کا نہیں ہوتا بلکہ وہ تو اس کے ورثاء کا ہو چکا۔ اس کا مال وہی ہوتا ہے جو وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرکے جاتا ہے، اس کا صلہ وہ اللہ کے ہاں پاتا ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’جب ابن آدم کی موت کا وقت قریب ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ فلاں کو اتنا دے دو اور فلاں کو اتنا حالانکہ اب تو وہ ان کا ہوچکا۔‘‘ (صحیح البخاري، ح:۱۴۱۹)
(۲) مرنے کے بعد انسان کو وہ مال کام آئے گا جو اس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوگا، دنیا میں چھوڑا ہوا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا بلکہ عین ممکن ہے اس کے لیے وبال جان بن جائے۔ کیونکہ آخرت کو نظر انداز کرکے ورثاء کے مستقبل کی فکر کرنا۔ اولاد کے لیے مال جمع کرنا کہ نہ معلوم ان کے حالات کیسے ہوں گے، ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی بھی ہے۔ یہ سوچ غلط ہے کہ اولاد کو رزق میری طرف سے ملتا تھا میرے جانے کے بعد نہ جانے ان کے ساتھ کیا ہوگا بسا اوقات صورت حال اس کے برعکس بھی ہوتی ہے۔ اکثر و بیشتر والدین کی جمع کردہ دولت اولاد بے دردی سے ضائع کر دیتی ہے کیونکہ انہوں نے اس کے کمانے میں مشقت نہیں اٹھائی ہوتی۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 153 سے ماخوذ ہے۔