حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عُمَارَةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلاَثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ وَإِيَّاهُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ الْجَنَّةَ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے تین بچے بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہوئے اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے اس شخص اور ان بچوں کو ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 151
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، الجنائز ، باب ما قبل فى أولاد المسلمين : 1381 ، 1248 و النسائي : 1873»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یعنی اللہ تعالیٰ ان بچوں پر فضل ورحمت کی وجہ سے ان کے والدین کو بھی جنت میں داخل فرمائے گا بشرطیکہ وہ مشرک یا حقوق العباد غصب کرنے والے نہ ہوں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 151 سے ماخوذ ہے۔