حدیث نمبر: 146
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ دَخَلَ الْجَنَّةَ“، قُلْنَا‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، وَاثْنَانِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”وَاثْنَانِ“، قُلْتُ لِجَابِرٍ‏:‏ وَاللَّهِ، أَرَى لَوْ قُلْتُمْ وَاحِدٌ لَقَالَ‏.‏ قَالَ‏:‏ وَأَنَا أَظُنُّهُ وَاللَّهِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس کے تین بچے فوت ہو گئے اور اس نے ثواب کی نیت سے صبر کیا، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جس کے دو فوت ہوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دو فوت ہوئے (وہ بھی جنت میں جائے گا)“، میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ اگر تم کہتے کہ ایک والا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور فرماتے کہ جس کا ایک فوت ہوا وہ بھی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میرا بھی یہی خیال ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 146
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه أحمد : 14285 - صحيح الترغيب : 2006 - اتحاف السادة المتقين للزبيدي : 299/5 - الدر المنثور للسيوطي : 158/1 - كنز العمال : 6613»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اولاد کی موت پر پہنچنے والا صدمہ اگر صبر سے برداشت کیا جائے اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں جنت عطا فرمائے گا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 146 سے ماخوذ ہے۔