الادب المفرد
كتاب الكرم و يتيم— كتاب الكرم و يتيم
بَابُ فَضْلِ الْمَرْأَةِ إِذَا تَصَبَّرَتْ عَلَى وَلَدِهَا وَلَمْ تَتَزَوَّجْ باب: اس عورت کی فضیلت جو شوہر کی وفات پر اپنے بچے ہی میں مشغول رہے اور دوسرا نکاح نہ کرے
حدیث نمبر: 141
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ نَهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ، امْرَأَةٌ آمَتْ مِنْ زَوْجِهَا فَصَبَرْتَ عَلَى وَلَدِهَا، كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور سیاہ سرخی مائل رخساروں والی عورت جو بیوہ ہو گئی، اور اس نے اپنے بچے کی تربیت پر صبر کیا اور آگے نکاح نہ کیا، جنت میں اس طرح (اکٹھے) ہوں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ تاہم یتیموں کی پرورش کی فضیلت دوسری احادیث سے ثابت ہے۔ اور اگر ممکن ہو تو اسے شادی بھی کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا حکم دیا ہے۔ (نور:۳۲)
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ تاہم یتیموں کی پرورش کی فضیلت دوسری احادیث سے ثابت ہے۔ اور اگر ممکن ہو تو اسے شادی بھی کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا حکم دیا ہے۔ (نور:۳۲)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 141 سے ماخوذ ہے۔