الادب المفرد
كتاب الكرم و يتيم— كتاب الكرم و يتيم
بَابُ فَضْلِ مَنْ يَعُولُ يَتِيمًا مِنْ أَبَوَيْهِ باب: اس شخص کی فضیلت جو ایسے یتیم کی پرورش کرتا ہے جس کے ماں باپ فوت ہو گئے ہیں
حدیث نمبر: 136
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ وَرْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ لاَ يَأْكُلُ طَعَامًا إِلاَّ وَعَلَى خِوَانِهِ يَتِيمٌ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو بکر بن حفص رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی کھانا کھاتے ان کے دسترخوان پر ضرور کوئی یتیم ہوتا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس اثر سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدا ترسی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ یتیموں کا کس قدر خیال رکھتے تھے۔ اثر کا باب کے ساتھ تعلق اس طرح ہے کہ اگر انسان یتیم کی مکمل کفالت نہ کرسکے تو صدق نیت سے یتیم کی ایک آدھ دن کفالت، یعنی اسے کھانا وغیرہ کھلا کر بھی اس ثواب کی امید کی جاسکتی ہے۔ اور یتیموں کو کھانا کھلانے کی خصوصی فضیلت کا ذکر قرآن مجید میں بھی ملتا ہے۔ (الدھر:۸)
اس اثر سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدا ترسی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ یتیموں کا کس قدر خیال رکھتے تھے۔ اثر کا باب کے ساتھ تعلق اس طرح ہے کہ اگر انسان یتیم کی مکمل کفالت نہ کرسکے تو صدق نیت سے یتیم کی ایک آدھ دن کفالت، یعنی اسے کھانا وغیرہ کھلا کر بھی اس ثواب کی امید کی جاسکتی ہے۔ اور یتیموں کو کھانا کھلانے کی خصوصی فضیلت کا ذکر قرآن مجید میں بھی ملتا ہے۔ (الدھر:۸)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 136 سے ماخوذ ہے۔