الادب المفرد
كتاب الكرم و يتيم— كتاب الكرم و يتيم
بَابُ فَضْلِ مَنْ يَعُولُ يَتِيمًا مِنْ أَبَوَيْهِ باب: اس شخص کی فضیلت جو ایسے یتیم کی پرورش کرتا ہے جس کے ماں باپ فوت ہو گئے ہیں
حدیث نمبر: 135
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا“، وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ہوں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سبابہ اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
جنت کے کئی درجات ہیں۔ سب سے آخر میں جنت میں جانے والا بھی رسول اکرم کے ساتھ ہوگا۔ لیکن اس کی منزل آپ سے بہت دور ہوگی۔ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ یتیم کی کفالت کرنے والے کی منزل آپ کے قریب ہوگی جس طرح دونوں انگلیوں میں تفاوت ہے اسی طرح منازل میں بھی تفاوت ہوگا۔ (شرح صحیح الأدب المفرد، حدیث:۱۳۵)
جنت کے کئی درجات ہیں۔ سب سے آخر میں جنت میں جانے والا بھی رسول اکرم کے ساتھ ہوگا۔ لیکن اس کی منزل آپ سے بہت دور ہوگی۔ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ یتیم کی کفالت کرنے والے کی منزل آپ کے قریب ہوگی جس طرح دونوں انگلیوں میں تفاوت ہے اسی طرح منازل میں بھی تفاوت ہوگا۔ (شرح صحیح الأدب المفرد، حدیث:۱۳۵)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 135 سے ماخوذ ہے۔