حدیث نمبر: 1320
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ: حَدَّثَنِي طَاوُسٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا، عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا“، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ”وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ“، مَرَّتَيْنِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو دین کی تعلیم دو اور آسانی پیدا کرو، سکھاؤ اور آسانی والا معاملہ کرو۔“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اور جب تمہیں غصہ آئے تو خاموش ہو جاؤ۔“ دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
جس شخص کو غصے پر قابو نہ ہو اور اسے غصہ زیادہ آتا ہو اسے چاہیے کہ گفتگو کم کرے تاکہ غصے کے کم سے کم مواقع آئیں۔ اور یہ بھی ہے کہ جب غصہ آئے تو خاموش ہو جائے۔ اس طرح غصہ ختم ہو جائے گا۔
جس شخص کو غصے پر قابو نہ ہو اور اسے غصہ زیادہ آتا ہو اسے چاہیے کہ گفتگو کم کرے تاکہ غصے کے کم سے کم مواقع آئیں۔ اور یہ بھی ہے کہ جب غصہ آئے تو خاموش ہو جائے۔ اس طرح غصہ ختم ہو جائے گا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1320 سے ماخوذ ہے۔