حدیث نمبر: 1318
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَا مِنْ جَرْعَةٍ أَعْظَمَ عِنْدَ اللهِ أَجْرًا مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ كَظَمَهَا عَبْدٌ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: کوئی گھونٹ جو انسان پیتا ہے اللہ کے نزدیک غصے کے اس گھونٹ سے بڑھ کر اجر و ثواب والا نہیں ہے جو انسان اللہ کی رضا کے لیے پیتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)غصہ ایک فطری امر ہے جو اللہ نے ہر انسان میں رکھا ہے لیکن انسان اس پر قابو پاسکتا ہے اور اس پر قابو پانے والا ہی باکمال آدمی ہے۔ غصے کے وقت آپے سے باہر ہونے والا شخص درحقیقت کمزور ترین انسان ہے۔
(۲) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت مرفوعاً بھی صحیح منقول ہے۔ غصے کو پی جانا اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ بشرطیکہ آدمی اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے ایسا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کی یہ صفت بیان کی ہے۔ غصے کا علاج اور اس پر کنٹرول کرنے کا طریقہ آئندہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔
(۱)غصہ ایک فطری امر ہے جو اللہ نے ہر انسان میں رکھا ہے لیکن انسان اس پر قابو پاسکتا ہے اور اس پر قابو پانے والا ہی باکمال آدمی ہے۔ غصے کے وقت آپے سے باہر ہونے والا شخص درحقیقت کمزور ترین انسان ہے۔
(۲) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت مرفوعاً بھی صحیح منقول ہے۔ غصے کو پی جانا اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ بشرطیکہ آدمی اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے ایسا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کی یہ صفت بیان کی ہے۔ غصے کا علاج اور اس پر کنٹرول کرنے کا طریقہ آئندہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1318 سے ماخوذ ہے۔