الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ باب: جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر
حدیث نمبر: 1316
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسَ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ الأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی نبوت کے کلام سے جو لوگوں نے پایا اس میں یہ بھی ہے کہ جب تجھے شرم نہ آئے تو جو جی میں آئے کر۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
حیا انسان کو بہت سے گناہوں سے روکتی ہے۔ بے حیا آدمی سے ہر برائی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس لیے اپنے عمل اور گفتگو میں حیا پیدا کرنی چاہیے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث:۵۹۷ کے فوائد۔
حیا انسان کو بہت سے گناہوں سے روکتی ہے۔ بے حیا آدمی سے ہر برائی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس لیے اپنے عمل اور گفتگو میں حیا پیدا کرنی چاہیے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث:۵۹۷ کے فوائد۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1316 سے ماخوذ ہے۔