حدیث نمبر: 1315
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الرَّأْسِ، عَظِيمَ الْعَيْنَيْنِ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ، كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَعَدٍ، إِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بڑا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں خوب موٹی تھیں۔ جب چلتے تو قدرے آگے کی طرف جھک کر چلتے، ایسے معلوم ہوتا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ڈھلان سے اتر رہے ہیں۔ جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو پوری طرح متوجہ ہوتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کسی کی طرف مکمل دھیان نہ دینا اور بات کسی کے ساتھ اور توجہ کسی اور طرف یہ چیز اعلیٰ اخلاق کے منافي ہے۔ تیز چلنا اور مکمل توجہ سے بات کرنا حیا کے منافي نہیں ہے اور نہ یہ جفا ہے۔
کسی کی طرف مکمل دھیان نہ دینا اور بات کسی کے ساتھ اور توجہ کسی اور طرف یہ چیز اعلیٰ اخلاق کے منافي ہے۔ تیز چلنا اور مکمل توجہ سے بات کرنا حیا کے منافي نہیں ہے اور نہ یہ جفا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1315 سے ماخوذ ہے۔