حدیث نمبر: 1314
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ، وَالإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا ایمان سے ہے اور ایمان (والا) جنت میں ہو گا۔ بدکلامی سخت مزاجی سے ہے اور اکھڑ پن (والا) جہنم میں ہو گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
انسان کی دنیوی اور اخروی کامیابی میں زبان کا بڑی حد تک عمل دخل ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر پوچھا:اللہ کے رسول! کیا زبان کی وجہ سے بھی مواخذہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تیری ماں تجھے گم پائے لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ ان کی زبانوں کی وجہ ہی سے گرایا جائے گا۔ اس لیے فحش گوئی اور بدزبانی سے باز رہنا چاہیے تاکہ جہنم سے بچا جاسکے۔
انسان کی دنیوی اور اخروی کامیابی میں زبان کا بڑی حد تک عمل دخل ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر پوچھا:اللہ کے رسول! کیا زبان کی وجہ سے بھی مواخذہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تیری ماں تجھے گم پائے لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ ان کی زبانوں کی وجہ ہی سے گرایا جائے گا۔ اس لیے فحش گوئی اور بدزبانی سے باز رہنا چاہیے تاکہ جہنم سے بچا جاسکے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1314 سے ماخوذ ہے۔