حدیث نمبر: 1313
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنَّ الْحَيَاءَ وَالإِيمَانَ قُرِنَا جَمِيعًا، فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الآخَرُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بلاشبہ حیا اور ایمان دونوں ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اس لیے جب ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
قبیح قول یا فعل کے ارتکاب سے جھجک کا نام حیا ہے۔ اور یہ صرف انسان کا خاصا ہے۔ حیا دار آدمی کبھی فاسق نہیں ہوسکتا۔
قبیح قول یا فعل کے ارتکاب سے جھجک کا نام حیا ہے۔ اور یہ صرف انسان کا خاصا ہے۔ حیا دار آدمی کبھی فاسق نہیں ہوسکتا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1313 سے ماخوذ ہے۔