حدیث نمبر: 1312
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏: ”الْحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلاَّ بِخَيْرٍ“، فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ‏:‏ مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ‏:‏ إِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ وَقَارًا، إِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ سَكِينَةً، فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ‏:‏ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صَحِيفَتِكَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا خیر ہی لاتی ہے۔“ بشیر بن کعب نے کہا: حکمت میں لکھا ہے کہ حیا سے سنجیدگی آتی ہے اور اطمینان بھی حیا سے ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور تم مجھے اپنے صحیفے کی باتیں بتاتے ہو۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الأدب : 6117 و مسلم : 37 و أبوداؤد : 4796»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)حیا جس قدر زیادہ ہوگی اسی قدر بندے میں خیر زیادہ ہوگی۔ ہر چیز کی زیادتی مضر ہوسکتی ہے لیکن حیا جتنی زیادہ ہو اتنی ہی بہتر ہے۔
(۲) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مقابلے کسی شخص کے قول کی کوئی حیثیت نہیں خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اور اس کی بات کتنی خوبصورت کیوں نہ ہو۔ صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بشیر بن کعب کی بات سن کر شدید غصے میں آگئے یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔
(۳) جو لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح اور واضح فرمان کے مقابلے میں بزرگوں کی باتیں پیش کرتے ہیں انہیں اپنے ایمان کا جائزہ ضرور لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1312 سے ماخوذ ہے۔