حدیث نمبر: 1310
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ رُكَيْنٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏: ”مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا، كَانَ لَهُ لِسَانَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارٍ“، فَمَرَّ رَجُلٌ كَانَ ضَخْمًا، قَالَ‏:‏ ”هَذَا مِنْهُمْ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو دنیا میں دو چہروں والا (دوغلا) ہو گا اس کی قیامت کے دن آگ سے بنی دو زبانیں ہوں گی۔“ پھر ایک بھاری بھر کم آدمی گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان میں سے ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب ، باب فى ذي الوجهين : 4873 و ابن أبى شيبة : 25463 و الدارمي : 2806 - أنظر الصحيحة : 892»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے مراد چغل خور ہے جو دو مخالف فریقوں میں فتنے کی آگ بھڑکاتا ہے۔ ہر ایک کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ اس کا ہمدرد ہے۔ اس طرح وہ منافقانہ کردار ادا کرکے اپنی آخرت تباہ کرتا ہے۔ روز قیامت اس کی زبان ڈبل ہوکر آگ کی بن جائے گی اور وہ اسی کی تپش میں گھلتا رہے گا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1310 سے ماخوذ ہے۔