حدیث نمبر: 1309
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برے لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو دوغلے پن کا مظاہرہ کرے، ایک گروہ کے پاس ایک بات کرتا ہے اور دوسرے کے پاس جا کر دوسری۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے مراد وہ انسان ہے جو ہر فریق کو اپنا دوست باور کراتا ہے۔ باہم مخالف دوگرپوں میں سے ہر ایک کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ اس کا خیر خواہ ہے حالانکہ وہ کسی کا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ ایسا انسان نہایت برا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث:۴۰۹ کے فوائد۔
اس سے مراد وہ انسان ہے جو ہر فریق کو اپنا دوست باور کراتا ہے۔ باہم مخالف دوگرپوں میں سے ہر ایک کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ اس کا خیر خواہ ہے حالانکہ وہ کسی کا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ ایسا انسان نہایت برا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث:۴۰۹ کے فوائد۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1309 سے ماخوذ ہے۔