حدیث نمبر: 1306
حَدَّثَنَا خَلاَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ دَخَلُوا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، فَرَأَوْا عَلَى خَادِمٍ لَهُمْ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ‏:‏ مَا أَفْطَنَكُمْ لِلشَّرِّ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کچھ عراقی لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے ان کی ایک خادمہ (لونڈی) کے گلے میں سونے کا ہار دیکھا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم لوگوں کی نظریں شر دیکھنے کے لیے بڑی تیز ہیں۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1306
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اہل عراق شر میں معروف ہیں۔ یہیں سے سارے فتنے پھوٹے۔ جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ایک دوسرے کو آنکھوں کے اشارے کرکے گھر کا جائزہ لینے لگے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کی یہ حرکت ناگوار گزری تو انہوں نے ڈانٹا کہ تمہیں نظریں دوڑانے سے شرم کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1306 سے ماخوذ ہے۔