الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ لَا يُقْبِلُ عَلَى وَاحِدٍ باب: جب لوگوں سے بات کر رہا ہو تو کسی ایک طرف توجہ نہ کرے
حدیث نمبر: 1304
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: كَانُوا يُحِبُّونَ إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ أَنْ لاَ يُقْبِلَ عَلَى الرَّجُلِ الْوَاحِدِ، وَلَكِنْ لِيَعُمَّهُمْ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
حضرت حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ پسند کرتے تھے کہ جب کوئی آدمی بیان کرے تو وہ کسی ایک آدمی کی طرف متوجہ نہ ہو، بلکہ عمومی خطاب کرے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سلف صالحین کا انداز گفتگو یہ تھا کہ جب وہ کسی مجلس میں بات کرتے تو کسی ایک آدمی کو خصوصی اہمیت اور توجہ نہ دیتے بلکہ عمومی گفتگو کرتے۔ کیونکہ کسی کو خصوصی توجہ دینے سے دوسروں کے دل میں حسد پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور اگر تنبیہ مقصود ہو تو بھی عمومی انداز میں گفتگو ہی بہتر ہے تاکہ وہ شخص بھری مجلس میں بے عزتی محسوس نہ کرے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز گفتگو بھی یہی تھا کہ جب کوئی تنبیہ کرنی ہوتی تو عمومی انداز میں کرتے کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے وغیرہ۔
سلف صالحین کا انداز گفتگو یہ تھا کہ جب وہ کسی مجلس میں بات کرتے تو کسی ایک آدمی کو خصوصی اہمیت اور توجہ نہ دیتے بلکہ عمومی گفتگو کرتے۔ کیونکہ کسی کو خصوصی توجہ دینے سے دوسروں کے دل میں حسد پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور اگر تنبیہ مقصود ہو تو بھی عمومی انداز میں گفتگو ہی بہتر ہے تاکہ وہ شخص بھری مجلس میں بے عزتی محسوس نہ کرے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز گفتگو بھی یہی تھا کہ جب کوئی تنبیہ کرنی ہوتی تو عمومی انداز میں کرتے کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے وغیرہ۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1304 سے ماخوذ ہے۔