حدیث نمبر: 1300
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلاً يَتْبَعُ حَمَامَةً، قَالَ‏: ”شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کبوتری کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان شیطانہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 1300
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح
تخریج حدیث «حسن صحيح : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب ، باب اللعب بالحمام : 4940 و ابن ماجه : 3765»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کبوتر باز غفلت میں مشہور ہیں۔ انہیں کبوتر اڑانے کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا۔ نہ انہیں نماز کی فکر نہ دین کی۔ بس ایک ہی دھن ان پر سوار ہوتی ہے۔ اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شیطان قرار دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((مَنِ اتَّبَعَ الصَّیْدَ غَفَلَ))(الصحیحة، ح:۱۲۷۲)
’’شکاری غافل ہوتا ہے۔‘‘
اسی سے امام بخاری رحمہ اللہ نے کبوتر کو ذبح کرنے کا استدلال کیا کیونکہ جو چیز اللہ کی یاد سے غافل کرے اسے دور کرنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1300 سے ماخوذ ہے۔